Thursday, January 31, 2013

قلب اور اس کی کیفیات

انسان کا دل اس کے پورے بدن کا مرکز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’خوب جان لو کہ بدن میں ایک ذرا سا لوتھڑا ایسا ہے کہ اگر وہ ٹھیک رہے تو سارا بدن ٹھیک رہتا ہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا بدن خراب ہوجاتا ہے، خوب جان لو کہ وہ دل ہے‘‘ (بخاری مسلم) ۔ انسان کا دل ایمان باللہ، ذکرِ خدا، شکرِ الٰہی، خوفِ آخرت اور خشوع و اِنابت الی اللہ سے جس قدر آباد ہوگا انسان کا پورا وجود اسی قدر اللہ کی بندگی کا مظہر و پیکر ہوگا اور اسی قدر انسان کی اطاعت و بندگی کے ظاہری رسوم و آداب میں عقیدتِ عبدیت و روحِ بندگی موجود ہوگی۔ اس کے برعکس قلبِ انسانی جس قدر ان صفات سے خالی ہوگا اسی قدر انسان کی زندگی اللہ کی بندگی و اطاعت سے دور ہوگی، یا اگر وہ بظاہر اللہ کی اطاعت و بندگی کررہا ہوگا تو اس کی عبادات و اعمال کی حیثیت بے جان لاشہ کی سی ہوگی کہ بظاہر ٹھیک ہونے کے باوجود اُن میں روحِ بندگی کا فقدان ہوگا۔ اور ظاہر ہے کہ حقیقتاً روحِ بندگی اور حقیقتِ عبدیت ہی مطلوب ہے، جس کے لازمی نتیجے کے طور پر انسان کا ظاہر سراپا بندگی بن ہی جاتا ہے، نہ کہ بے روح ظاہر، جو دوسروں کی نظروں کو دھوکا دے سکتا ہے اور جس سے انسان خود بھی فریبِ نفس میں مبتلا ہوسکتا ہے لیکن جسے خدا کے یہاں سندِ قبولیت حاصل نہیں ہوسکتی، کیونکہ اس کے یہاں اصل قدر و قیمت انسان کے قلبی جھکائو کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:۔ ’’بیشک اللہ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا، وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے‘‘ (مسلم)۔ ایک اور حدیث میں ہے: ’’بندہ ایسے اعمال کرتا ہے جو لوگوں کی نظر میں اہلِ جنت کے سے عمل ہوتے ہیں مگر فی الواقع وہ شخص دوزخی ہوتا ہے‘‘ (بخاری)۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر ہر بندۂ مومن کو اپنے قلب کا مسلسل جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ ایمان، ذکر، خشوع، خشیت و محبت اور اِنابت و عبدیت کے لحاظ سے اس کی کیفیت کیا ہے، اور اگر اس پہلو سے اسے اپنے اندر کوئی نقص یا ٹھیرائو محسوس ہو تو سب سے پہلے اس کے دفعیہ کی فکر کرنی چاہیے، کیونکہ انسان کی پوری زندگی کی اصلاح کا دارومدار تمام تر قلب کی اصلاح ہی پر ہے۔ یہ جائزہ اور قلب کا یہ احتساب اس قدر ضروری ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام جیسی مقدس و معصوم ہستیاں اور افضل الانبیاء صلوات اللہ علیہ و سلامہ جیسی برگزیدہ شخصیت بھی اس کی طرف شدت سے متوجہ تھی۔ دن اور رات کی تھوڑی سی مدت میں بے شمار بار اللہ کے یہ برگزیدہ بندے اس احتساب میں مصروف ہوتے اور اپنے علوئے مقام کی مناسبت سے اگر شِمّہ برابر بھی کمی محسوس فرماتے تو پوری خشیت و انابت کے ساتھ اللہ کے حضور استغفار میں لگ جاتے۔ اللہ کے مقرب ترین بندے ہونے کے باوجود اُن کا یہ حال تھا! اور ہم خطا کاروں کا خطا کار ہونے کے باوجود یہ عالَم ہے کہ اپنے احتساب اور خصوصاً اپنے قلب کے احتساب کی طرف ذہن متوجہ بھی نہیں ہوتا۔

No comments:

Post a Comment