Showing posts with label پاکستان مصر. Show all posts
Showing posts with label پاکستان مصر. Show all posts

Sunday, November 8, 2020

مصر کے فوجی ڈکٹیٹر نے فرانس کے بائیکاٹ کو جرم بنادیا

مصر کے فوجی ڈکٹیٹر نے فرانس کے بائیکاٹ کو جرم بنادیا

مصر پر مسلط جنرل عبدالفتاح سیسی کی اسلام دشمن حکومت نے اپنے جرائم میں پیش قدمی کرتے ہوئے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی دعوت دینے کو جرم قرار دے دیا۔ مصر کے معروف عالم دین اور مبلغ شیخ مصطفی عدوی نے فرانس میں ریاستی سرپرستی سے جاری توہین اسلام کے خلاف مسلمان حکمرانوں کو عملی اقدام کرنے کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہا تھا کہ مسلمان حکمران اسلام سے برسرپیکار 



ممالک کے بجائے غیرمتحارب ممالک سے اسلحہ خریدیں، کیوں کہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ عام مسلمانوں ہی کا نہیں حکمرانوں اور سیاست دانوں کا بھی فریضہ ہے۔ مغربی آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے والی سیسی حکومت کو شیخ مصطفی عدوی کا یہ جرأت مندانہ بیان پسند نہ آیا اور پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ سیسی حکومت کی جانب سے اگرچہ یہ مغرب نوازی اور اسلام پسندوں سے دشمنی کی پہلی مثال نہیں ہے، تاہم ایک ایسے موقع پر جب فرانس میں توہین رسالت کی پے در پے ناپاک جسارت کے باعث پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل چھلنی ہیں، مصری آمریت کا یہ اقدام ناقابل قبول اور امت مسلمہ کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ مصر میں پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد سیسی حکومت نے انسانیت کے خلاف جرائم میں فرانس ہی کی پیروی کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید، گرفتار اور لاپتا ہوچکے ہیں۔ اخوان المسلمون سمیت فوجی حکومت کی ناقد تمام ہی جماعتوں کے رہنما اور کارکن قیدوبند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ سیکڑوں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس لیے سیسی حکومت کی جانب سے فرانس کی گستاخانہ سرگرمیوں کے حمایت میں یہ اقدام کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ لیکن یہ باعث افسوس ضرور ہے کہ ایسے وقت میں جب مسلمانوں کی جانب سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ نے متعصب صدر عمانویل ماکروں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے، مصر پر قابض فوجی حکومت اس بائیکاٹ اور احتجاج کو دبانے کے لیے اپنے ہی شہریوںاور شخصیات کے خلاف صف آرا ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کے ہاتھوں معاشی دھچکا لگنے کے بعد سے فرانسیسی صدر دنیا کو وضاحتیں دیتا پھر رہا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں ان کے بیانات کو توڑ موڑ کر نشر کیا گیا۔ فرانس کی جنگ اسلام نہیں شدت پسندی کے خلاف ہے۔ نیز یہ کہ اس کی حکومت مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی کو بڑھاوا نہیں دے رہی۔ ماکروں نے ایک انٹرویو میں یہ تک بہانا تراشا کہ وہ اب سمجھا ہے کہ خاکے بعض لوگوں کے لیے اس قدر تکلیف دہ ہوسکتے ہیں۔ غرض فرانس کی اسلام دشمن اور نسل پرست حکومت نے مسلمانوں کے عملی احتجاج کو جتنا سنجیدہ لیا، اتنا اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے مذمتی اور صلح کل انداز کے بیانات کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ممالک ریاستی سطح پر فرانس کو لگام ڈال کر برسوں سے جاری توہین مذہب کا یہ سلسلہ بند کراسکتے ہیں۔ مسلمانوں کے ممالک کی اکثریت ایسی ہے، جہاں حکمرانِ وقت، حکومت، مقتدر حلقوں اور افواج کو تنقید کا نشانہ بنانا، ناقابل معافی سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح حلیف غیرمسلم ممالک کے خلاف بیان بازی بھی برداشت نہیں کی جاتی۔ اس جرم کی پاداش میں مختلف ممالک میں لاکھوں شہری پابند سلاسل اور لاپتا ہیں۔ لیکن بات جب توہین اسلام اور ناموسِ رسالت کی آتی ہے، تو یہی حکومتیں مذمتی بیانات داغ دینے پر اکتفا کرتی نظر آتیں ہیں۔ ان ممالک کے دستور میں اسلام کو سرکاری مذہب کا درجہ تو دیا جاتا ہے، لیکن ان کی سرزمین پر عملاً اس دین کے خلاف اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اپنے ممالک میں قرآن وسنت کے نفاذ کا خواب دیکھنے کو ’’سیاسی اسلام‘‘ کا نام دے کر اسلام پسندوں کو ختم کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے، کیوں کہ امریکا اور یورپی یونین سے چین اور روس تک ہر خودساختہ عالمی ٹھیکے دار کو مسلمانوں کا یہ روپ خوف زدہ کرتا ہے۔ تاہم ان حکمرانوں کو اندازہ نہیں کہ یہ دین غالب ہونے کے لیے آیا ہے اور اللہ تعالیٰ جلد مسلمانوں کی یہ خواہش پوری کردیں گے۔ اس لیے بحیثیت مسلمان عالم اسلام کے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس سمت میں پیش رفت کریں اور مغرب کے آلہ کار نہ بنیں


Tuesday, March 26, 2013

مصر… اسلامی بہار کی آغوش میں!

ایک زمانہ وہ تھا جب دوست ممالک کے سربراہان پاکستان کے دورے پر آتے تھے تو اسکول وکالج کے طلباء اور عوام ائیرپورٹ اور شاہراہوں کے دونوں طرف جمع ہوکر ان کا استقبال کرتے تھے۔ ہمیں یاد ہے کہ جب چین کے وزیراعظم چواین لائی آئے تھے تو کراچی ائیرپورٹ اور شاہراہ فیصل پر لوگ قطار درقطار اپنے دوست ملک کے سربراہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جمع تھے۔ ان کے ہاتھوں میں پاکستان اور چین کے جھنڈے تھے، شاہراہوں کو بھی جھنڈیوں اور بینروں سے سجایا گیا تھا۔ اب زمانہ تو وہی ہے لیکن حالات اتنے بدل گئے ہیں کہ کسی بھی ملک کا سربراہ آئے، وہ اسلام آباد اترتا ہے اور وہیں سے چلا جاتا ہے۔ نہ وہ کراچی آکر بابائے قوم کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھاتا ہے نہ فاتحہ خوانی کرتا ہے۔ اسی طرح لاہور کے شالا مار باغ میں بھی شہریوں کی جانب سے کوئی استقبالیہ دیا جاتا ہے نہ ضیافت۔ ان روکھے پھیکے دوروں کے نتیجے میں ریاستی اور سرکاری رابطہ تو ہوجاتا ہے لیکن یہ سیاسی، سفارتی اور ثقافتی رابطے کی کمزور کڑی ہے، اس لیے عوام کا عوام سے کوئی تعلق اور رابطہ استوار نہیں ہوتا۔
وہ زمانہ اور دور ہمیں اس لیے یاد آگیا کہ مصر کے صدر محمد مرسی گزشتہ دنوں پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد آئے اور دس گھنٹے قیام کے بعد واپس دہلی چلے گئے۔ ہماری خواہش اور آرزو تھی کہ صدر مرسی کراچی آئیں تو ہم اہلِ کراچی مصر کے اخوانی صدر سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کریں۔ لیکن شاید حالات آڑے آگئے ہوں گے، تاہم جماعت اسلامی پاکستان کے امیر محترم سید منور حسن کی قیادت میں وفد کی صدر مرسی سے ملاقات نے ہماری آدھی خواہش ضرور پوری کردی۔ اس ملاقات کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط ومستحکم کرنے کی تجاویز پر اتفاق کیا گیا۔ سید صاحب نے صدر مرسی سے ملاقات میں پاکستان کے 18 کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ صدر مرسی کا دورۂ پاکستان تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ بعد مصر کا کوئی صدر پاکستان آیا ہے۔ آج کا مصر ایک مختلف مصر ہے، اور محمد مرسی جمہوری طریقے سے مصر کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ صدر مرسی سے سید صاحب کی ملاقات کے نتیجے میں پاکستان اور مصر کے عوام میں تعلق اور رشتہ مزید گہرا اور مضبوط ہوگا، اور جب پاکستان میں بھی اخوان المسلمون کی طرح جماعت اسلامی کی حکومت قائم ہوگی تو دونوں ممالک کے سربراہ نہ صرف اسلام آباد بلکہ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں کھلی جیپ میں کاروانِ اخوت ومحبت کا مظاہرہ کریں گے۔
صدر مرسی کا یہ سرکاری دورہ تھا۔ صدر زرداری نے نہ صرف مصری صدر کو سفارتی پروٹوکول دیا بلکہ والہانہ استقبال کے ساتھ پاکستان اور مصر کے ساتھ تجارتی واقتصادی شعبوں میں مفاہمت کی آٹھ یادداشتوں پر دستخط بھی کیے۔ ملاقات میں یہ بھی طے ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ششماہی بنیادوں پر سربراہانِ مملکت کی سطح پر ملاقات ہوگی۔ صدر مرسی نے اپنے دورے کے موقع پر بجا طور پر فرمایا کہ پاکستان اور مصر اسلامی دنیا کے دو اہم ستون ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات میں یہ بھی فرمایا کہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل حل ہونے تک خطے میں امن قائم نہیں ہوگا۔
مصری صدر محمد مرسی کا دورۂ پاکستان مصر اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا ایک نیا موڑ ہے۔ اب تک مصر سے پاکستان کے تعلقات صر ف سیاسی اور سفارتی سطح پر تھے۔ مصر میں آمریت کے خاتمے اور اسلام پسند اخوان المسلمون کی حکومت کے قیام سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں ایک نیا موڑ آئے گا۔ اس دورے سے جہاں دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور دفاعی تعلقات میں اضافہ ہوگا، وہیں دونوں ملک مل کر امتِ مسلمہ کی فلاح وترقی کے لیے بھی بامعنی کردار ادا کرسکیں گے۔
خزاں رسیدہ مصر ایک طویل جدوجہد اور قربانی کے بعد آمریت اور استعماریت کے شکنجے سے آزاد ہوا ہے، ہرچند کہ اس آزادی کو ’’عرب بہار‘‘ کا نام دیا جارہا ہے لیکن اصلاً یہ قوم یا قومیت کی نہیں بلکہ ’’اسلامی بہار‘‘ ہے۔ عرب قومیت نے خود عربوں کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ اسے آج تک بھگت رہے ہیں۔ اسی لیے استعماری اور طاغوتی طاقتوں نے نہایت عیاری اور مکاری کے ساتھ ’’اسلامی بہار‘‘ کو ’’عرب بہار‘‘ سے تشبیہ دی ہے تاکہ قومیت کے زہر اور عصبیت کے مقابلے میں اسلام کی حقانیت اور صداقت کو آگے نہ آنے دیا جائے۔ لیکن یہ فتنہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا، جو بھی اسلامی قومیت کے مقابلے میں نسلی، لسانی اور علاقائی عصبیت کا مظاہرہ کرے گا اسلام پسند اسے ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم ایک بار پھر مصر کو اسلامی بہار کی آغوش میں نئے جنم پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ پاکستان اور مصر مل کر مسلم اُمہ کے اتحاد، یکجہتی، سلامتی، استحکام اور ترقی و سربلندی کے لیے کام کریں گے۔